پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز کے میدان پر جاری پہلے ٹیسٹ کےدوسرے روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے253 بنائے ہیں اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔ انگلینڈ ابھی پاکستان کے سکور سے 86 رنز پیچھے ہے اور اس کی تین وکٹیں باقی ہیں۔ کرس ووکس31 رنز اور سٹیو براڈ رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان کی پوری ٹیم 339 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ ٭دوسرے روز کھیل کی تصویری جھلکیاں ٭ تفصیلی سکور کارڈ کے لیے کلک کریں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ سب سے کامیاب بولر رہے۔ یاسر شاہ نے 25 اووروں میں صرف 64 رنز دے پانچ وکٹیں حاصل کی ہے۔ یاسر شاہ نے کی عمدہ بولنگ نے پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ اس موقع پر انگلینڈ 118 رنز پر ایک کھلاڑی آؤٹ تھا لیکن یاسر شاہ نے مسلسل بولنگ کرتے ہوئے نہ صرف رنز روکے بلکہ وقفے وقفے سے وکٹیں لیتے رہے۔یاسر شاہ پہلے لیگ سپنر ہیں جنھوں نےگذشتہ بیس برسوں میں لارڈز کے میدان میں پہلی بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ پچھلی بار پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد نے لارڈز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ جب انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز کیا تو کپتان مصباح الحق نے پہلے اوور کےلیےگیند محمد عامر کی طرف اچھال دی۔ محمد عامر کے پہلے اوور میں ایلکس ہیلز نے ایک چوکا لگایا لیکن وہ زیادہ دیر تک کریز پر نہ ٹہر سکے اور راحت علی کے پہلے اوور میں سلپ میں اظہر علی کو کیچ تمھا گئے۔محتاط اندازمیں بیٹنگ کی شہرت رکھنے والے ایلسٹر کک کے چند عمدہ سٹروک کھیلے۔ جب کک کا انفرادی سکور صرف 22 رنز تھا تو محمد حفیظ نے ان کا ایک آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔ ایلسٹر کک کو اس وقت دوسری زندگی ملی جب وکٹ کیپر سرفراحمد نے ایک آسان کیچ ڈراپ کردیا۔ دنوں بار بدقسمت بولر محمد عامر تھے۔ محمد عامر بالاخر ایلسٹر کک کو بولڈ کر میچ میں پہلی وکٹ حاصل کی۔ پاکستان جو صرف چار ریگولر بولروں کے ساتھ میدان میں اترا ہے اسے انیسویں اووروں میں ہی لیگ سپنر یاسر شاہ کو بولنگ کے لیے لانا پڑا لیکن یاسر شاہ نے نہ صرف ایک طرف سے رنز روکے بلکہ اوپر تلے پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کا میچ میں پلہ بھاری کر دیا۔ یاسر شاہ نے


انگلینڈ کے سب سے قابل اعتماد نوجوان بیٹسمین جو روٹ، جیمز ونس، گیری بیلنس، جانی بیرسٹو اور معین علی کو آؤٹ ک۔ سرفراز احمد نے جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کیا محمد عامر جب بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو تماشیائیوں نے گرم جوشی سے ان کا اسی میدان میں استقبال کیا جہاں وہ پچھلی بار سپاٹ فکسنگ کے جرم میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس سے قبل جب پاکستان نےاپنی دوسرے روز 292 چھ کھلاڑی آؤٹ سے اپنی اننگز دوبارہ شروع کی تو وکٹ کیپر سرفراز نے جارجانہ انداز اپنایا۔ پاکستان نے مزید کسی نقصان 300 مکمل کر لیے۔ اس مرحلے پر سرفراز احمد جو انگلش فاسٹ بولروں کو آگے بڑھ کر چوکے لگا رہے تھے، کرس ووکس کی گیند پرکیچ آؤٹ ہو گئے۔ سرفراز احمد کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی اننگز بھکر کر رہ گئی۔ اگلےآنے والے بیٹسمین وہاب ریاض دوسرے گیند پر سٹیو براڈ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ وہاب ریاض کے بعد مصباح الحق بھی اپنے سکور میں صرف چار رنز کا اضافہ کرنے کے بعد سٹیو براڈ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ محمد عامراور یاسر شاہ نے آخری وکٹ کی شراکت میں 23 رنز بنائے۔ آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی محمد عامر تھے جنھوں نے 12 رنز بنائے۔

Labels:



Leave A Comment:

Powered by Blogger.